Showing posts with label Urdu Poetry. Show all posts
Showing posts with label Urdu Poetry. Show all posts
Sep 4, 2010
Jun 6, 2009
اس شہر بیقراں میں
Saturday, June 06, 2009
اس شہر بیقراں میں کتنے ہزار چہرے
کتنی ہزار آنکھیں
کتنی چہل پہل ہے
کیا اژدہام آدم
زندگی یہاں پر کیسے راواں دواں ہے
گلیوں میں شور و غل ہے
تو سڑکوں پہ دھواں ہے
جس جا قدم پڑے ہے
اس جا پہ روشنی ہے
اے آنکھ تو کیا ہے
تو کیوں نہ دیکھتی ہے
ایسی چہل پہل سے گوشہ نشینی بہتر
اور ایسی روشنی سے بہتر تو تیرگی ہے
کتنے ہی ہیں یہاں پر ایک وہ نہیں ہے
جسے دیکھنا بصارت ، سننا جسے سماعت
جسے چھونا لمس ہے اور
جسے پانا زندگی ہے
اس شہر بیقراں میں
چہروں کے درمیاں میں
میری آنکھیں تیرا چہرہ
اکثر ہی ڈھونڈتی ہیں
تیری یاد میرے دل سے
اک پل کو دور کیا ہے
ایسا کیا جو اس میں
میرا قصور کیا ہے۔
کتنی ہزار آنکھیں
کتنی چہل پہل ہے
کیا اژدہام آدم
زندگی یہاں پر کیسے راواں دواں ہے
گلیوں میں شور و غل ہے
تو سڑکوں پہ دھواں ہے
جس جا قدم پڑے ہے
اس جا پہ روشنی ہے
اے آنکھ تو کیا ہے
تو کیوں نہ دیکھتی ہے
ایسی چہل پہل سے گوشہ نشینی بہتر
اور ایسی روشنی سے بہتر تو تیرگی ہے
کتنے ہی ہیں یہاں پر ایک وہ نہیں ہے
جسے دیکھنا بصارت ، سننا جسے سماعت
جسے چھونا لمس ہے اور
جسے پانا زندگی ہے
اس شہر بیقراں میں
چہروں کے درمیاں میں
میری آنکھیں تیرا چہرہ
اکثر ہی ڈھونڈتی ہیں
تیری یاد میرے دل سے
اک پل کو دور کیا ہے
ایسا کیا جو اس میں
میرا قصور کیا ہے۔
May 25, 2009
Apr 22, 2009
اس سے پہلے کے خاک ہو جاو
Wednesday, April 22, 2009
اس سے پہلے کے خاک ہو جاو۔۔۔
اس سے پہلے کے خاک ہو جاو
چند لمحے گزار لو تم بھی
ایسے شوریدہ ساحلوں پہ جہاں
چاندنی رات بھر نہی ڈھلتی
اور لہروں کے شور میں اکثر
اپنی آواز بھی نہی ملتی
خشک ہونٹوں پہ پیاس کے نغمے
دلِ ویراں میں آس کے نغمے
ایک ٹوٹے سپاس کے نغمے
اور کچھ آس پاس کے نغمے
گیلے ساحل پہ خشک تلوں سے
اپنے آثار چھوڑتے جاو
تھوڑے آنسو متاعِ غم کے امیں
تھوڑا سا پیار چھوڑتے جاو
چند لمحے ادھار کے لینگے
ہم بھی نمکین پانیوں کے لئے
حسنِ انجام کچھ تو ہو تاکہ
ان ادھوری کہانیوں کے لئے
اس سے پہلے کے خاک ہو جاو
چند لمحے گزار لو تم بھی
ایسے شوریدہ ساحلوں پہ جہاں
چاندنی رات بھر نہی ڈھلتی
اور لہروں کے شور میں اکثر
اپنی آواز بھی نہی ملتی
خشک ہونٹوں پہ پیاس کے نغمے
دلِ ویراں میں آس کے نغمے
ایک ٹوٹے سپاس کے نغمے
اور کچھ آس پاس کے نغمے
گیلے ساحل پہ خشک تلوں سے
اپنے آثار چھوڑتے جاو
تھوڑے آنسو متاعِ غم کے امیں
تھوڑا سا پیار چھوڑتے جاو
چند لمحے ادھار کے لینگے
ہم بھی نمکین پانیوں کے لئے
حسنِ انجام کچھ تو ہو تاکہ
ان ادھوری کہانیوں کے لئے
Subscribe to:
Posts (Atom)


